حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ممبئی/ معروف عالمِ دین مولانا غلام حسنین رضوی کراروی کی مجلسِ برسی 7 رمضان المبارک کو بہشتِ زینب قبرستان، جوہو کپاس واڑی، اندھیری میں عقیدت و احترام کے ساتھ منعقد ہوئی۔ مجلس کا آغاز تلاوتِ قرآنِ مجید سے ہوا جس کی سعادت مرحوم کے فرزند جناب طوسی رضوی نے حاصل کی، جبکہ نظامت کے فرائض مولانا علی عباس وفا نے بحسنِ خوبی انجام دیے۔
اس موقع پر معروف نوحہ خواں علی ہاشمی، فیروز ہاشمی، اثر فیض آبادی اور کامران عابس نے بارگاہِ امام حسینؑ میں سلام پیش کیا۔ مرحوم کے فرزند جناب جاوید رضوی نے مرثیہ خوانی کی سعادت حاصل کی۔
مجلس سے خطاب کرتے ہوئے حجۃ الاسلام مولانا عقیل ترابی نے مرحوم کی علمی، فکری اور سماجی خدمات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ مولانا غلام حسنین رضوی کی خدمات ناقابلِ فراموش ہیں۔ انہوں نے ماہِ مبارک رمضان کی اہمیت بیان کرتے ہوئے مصائبِ کربلا کا تذکرہ بھی کیا۔ مجلس کے اختتام پر مومنین و مومنات کے لیے افطار اور نذرِ مولا کا اہتمام کیا گیا۔ آخر میں جناب جاوید رضوی، طوسی رضوی اور مفید رضوی نے حاضرین کا شکریہ ادا کیا۔
آیے جانتے ہیں مولانا غلام حسنین رضوی کراروی کے بارے میں از قلم مولانا کرامت حسین جعفری
برصغیر کی دینی و فکری تاریخ میں کچھ شخصیات ایسی گذری ہیں جو نہ نعروں کی بلند آہنگی سے پہچانی جاتی ہیں اور نہ شہرت کے ہجوم میں گم ہو کر نمایاں ہوتی ہیں، مگر ان کی خاموش محنت، فکری پختگی اور استقامتِ کردار وقت کے صفحات پر گہری تحریر چھوڑ جاتی ہے۔ مولانا سید غلام حسنین رضوی کراروی اسی قبیل کے اہلِ علم میں شمار ہوتے ہیں—سنجیدہ، متوازن اور دوراندیش۔
آپ کی پیدائش کراری، ضلع الہ آباد کے ایک دیندار، سادہ اور روایت پسند قصبے میں ہوئی، جہاں مذہبی اقدار اور اخلاقی سادگی زندگی کا حصہ تھیں۔ اسی فضا میں آپ نے آنکھ کھولی اور وہیں ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ کم عمری ہی سے علم سے گہری وابستگی اور مطالعے کا شوق نمایاں تھا، چنانچہ یہی تشنگیِ علم آپ کو وطن کی محدود فضا سے نکال کر لکھنؤ کے ممتاز اور معتبر علمی مرکز جامعہ سلطان المدارس تک لے گئی، جہاں آپ نے باقاعدہ دینی و فکری تربیت پائی۔
یہ وہ دور تھا جب برصغیر کی فکری فضا شدید انتشار کا شکار تھی۔ کمیونزم، اشتراکیت اور مادّی افکار اپنی دلکش اصطلاحات اور ترقی کے خوش نما نعروں کے ساتھ نوجوان اذہان پر یلغار کر رہے تھے۔ اعلیٰ تعلیم یافتہ طبقے کی ایک بڑی تعداد اس فکری سحر میں مبتلا ہو چکی تھی، اور یہ زہر اس حد تک پھیل چکا تھا کہ بعض وہ لوگ بھی لغزش کا شکار ہو گئے جو مدارسِ علمیہ جیسے روحانی اور دینی مراکز سے وابستہ تھے۔ اس زمانے میں دین پر ثابت قدم رہنا محض عقیدے کا نہیں بلکہ فکری جرات کا تقاضا بن چکا تھا۔
ایسے پُرآشوب ماحول میں غلام حسنین رضوی کی استقامت غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔ دوستوں اور ہم عصروں کی بڑی جماعت نظریاتی بہاؤ کے ساتھ بہہ گئی، مگر آپ نے اپنے قدم دین، عقل اور علم کے متوازن راستے پر مضبوطی سے جمائے رکھے۔ نہ وقتی جوش نے آپ کو مرعوب کیا، نہ ترقی کے مصنوعی اور کھوکھلے خوابوں نے آپ کے یقین میں لرزش پیدا کی۔ آپ نے اختلاف کے شور میں بھی سکونِ فکر کو ترجیح دی اور انتشار کے زمانے میں توازن کو تھامے رکھا۔ یہی ثابت قدمی، یہی فکری وقار اور یہی اعتدال وہ جوہر تھا جس نے آپ کو محض ایک روایتی عالم نہیں رہنے دیا بلکہ ایک ایسا فکری امین بنا دیا جس کی نگاہ اپنے زمانے کے فریب کو پہچانتی تھی اور جس کا قلم آنے والی نسلوں کے لیے راستہ متعین کرتا تھا۔
تعلیمی مراحل کی تکمیل کے بعد آپ نے اپنی علمی، فکری اور عملی خدمات کے لیے ممبئی کو اپنا مستقل مرکز منتخب کیا۔ یہ انتخاب سہولت یا شہرت کی بنیاد پر نہیں تھا، بلکہ اس یقین کے ساتھ تھا کہ بڑے شہر میں رہ کر بھی علم اور فکر کی سنجیدہ خدمت کی جا سکتی ہے۔ ممبئی—اس عروسُ البلاد میں جہاں چکاچوند، نمود و نمائش اور تیز رفتار زندگی اکثر انسان کو اپنی گرفت میں لے لیتی ہے—غلام حسنین رضوی کی زندگی ایک خاموش مگر نہایت بامعنی استثناء کی صورت میں جلوہ گر ہوتی ہے۔
اس شہر کی رنگینیوں اور مصروفیات کے درمیان رہتے ہوئے بھی انہوں نے اپنے مزاج کو ان اثرات سے محفوظ رکھا۔ ان کی زندگی میں سادگی کسی مجبوری کا نام نہیں تھی بلکہ ایک شعوری، سوچا سمجھا اور باوقار انتخاب تھی۔ لباس ہو یا طرزِ رہائش، نشست و برخاست ہو یا معاشرت—ہر جگہ اعتدال، وقار اور سنجیدگی نمایاں رہتی تھی۔ یہی سادہ زیستی ان کے علم کی گہرائی، فکر کی پاکیزگی اور کردار کی خودداری کی آئینہ دار تھی، اور اسی نے ممبئی جیسے شہر میں بھی ان کی شخصیت کو ایک الگ شناخت عطا کی۔
اسی سادگی اور وقار کے ساتھ ان کی ممبئی کی زندگی کا ایک نہایت اہم اور کم بیان کیا گیا پہلو ان کی سماجی اور عملی خدمت ہے۔ ممبئی میں قیام کے دوران انہوں نے کراری اور اس کے اطراف کے مومنین کو اس بڑے شہر کی پیچیدہ زندگی میں تنہا نہیں چھوڑا۔ روزگار کے مختلف شعبوں میں ان کے لیے راستے ہموار کرنا، مناسب تعارف کروانا، صحیح لوگوں سے رابطہ قائم کروانا اور نئے آنے والوں کو شہری زندگی کے تقاضوں سے آشنا کرنا—یہ سب کام انہوں نے خاموشی سے انجام دیے۔
وہ جانتے تھے کہ ہجرت صرف جگہ بدلنے کا نام نہیں، بلکہ ایک پوری نسل کے مستقبل کا سوال ہوتی ہے۔ اسی لیے انہوں نے محض نوکری دلانے پر اکتفا نہیں کیا بلکہ خاندانوں کی فکری اور اخلاقی حفاظت کو بھی پیش نظر رکھا۔ بچوں کی تعلیم کے سلسلے میں مناسب اسکولوں کا انتخاب، تعلیمی سمت کی رہنمائی، اور دینی شناخت کو محفوظ رکھنے کی فکر—یہ سب ان کی عملی جدوجہد کا حصہ تھا۔
ان سے ملنے آنے والے افراد محض طالبِ علم یا محض مزدور نہیں بنتے تھے، بلکہ وہ انہیں باوقار شہری بننے کا سلیقہ سکھاتے تھے۔ وہ سمجھاتے کہ روزگار عزت کے ساتھ ہو، تعلیم کردار کے ساتھ، اور ترقی ایمان کی قیمت پر نہ ہو۔ اسی توازن نے بہت سے خاندانوں کو ممبئی کی تیز رفتار زندگی میں بکھرنے سے بچایا۔
یوں ممبئی میں ان کی سکونت محض ایک ذاتی قیام نہیں تھی، بلکہ کراری اور اس کے اطراف کے مومنین کے لیے ایک تحفظ گاہ کی صورت اختیار کر گئی۔ انہوں نے اپنے علم کو کتابوں تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے انسانی زندگی کے عملی مسائل میں اتارا—اور یہی وہ خدمت ہے جو خاموش رہ کر بھی دیرپا اثر چھوڑ جاتی ہے۔
تصنیف، ترجمہ اور فکری امانت
غلام حسنین رضوی کا اصل میدان قلم تھا۔ انہوں نے متعدد علمی کتب تصنیف کیں اور فارسی کے بیش قیمت علمی سرمایے کو اردو کے قالب میں ڈھالا۔ ان کے ترجمے محض لفظی نقل نہ تھے بلکہ مفہوم کی حفاظت، فکری دیانت اور اسلوب کی سلاست کے آئینہ دار تھے۔ بالخصوص شہید مرتضیٰ مطہریؒ کی بعض تصانیف کا اردو ترجمہ ایک بڑی علمی خدمت تھی—یہ وہ مرحلہ تھا جہاں مترجم کو صرف زبان نہیں بلکہ فکر منتقل کرنی ہوتی ہے، اور غلام حسنین رضوی نے اس ذمہ داری کو پورے وقار اور بصیرت کے ساتھ ادا کیا۔
ان کی علمی بصیرت اور فکری وقار کا ایک نمایاں مظہر وہ موقع تھا جب رہبرِ معظمِ انقلابِ اسلامی ایران آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای (دام ظلہ) ہندوستان تشریف لائے۔ ممبئی میں ہونے والی ان کی فارسی تقریر کو اردو داں طبقے تک پہنچانے کی ذمہ داری غلام حسنین رضوی کے سپرد کی گئی۔ یہ انتخاب اس حقیقت کا اعتراف تھا کہ وہ محض زبان کے مترجم نہیں بلکہ پیغام کے امین تھے۔ ہندوستان میں اہلِ علم کی کمی نہ تھی، مگر اس نازک فکری ذمہ داری کے لیے غلام حسنین رضوی کا انتخاب اس اعتماد کی علامت تھا جو ان کی علمی دیانت، فکری توازن اور معنی آفرینی پر کیا گیا۔ یہاں ترجمہ نہیں بلکہ ترسیلِ فکر مطلوب تھی—اور انہوں نے لفظ، مفہوم اور مقصد تینوں کی حفاظت کرتے ہوئے اس امانت کو ادا کیا۔
یہ واقعہ اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ غلام حسنین رضوی کا رشتہ عصرِ حاضر کے بزرگ علما سے محض رسمی نہیں تھا بلکہ گہرا اور فکری تھا۔ ان کی فکری بنیادیں انقلابی فکر پر استوار تھیں، اور یہی وجہ تھی کہ یہ ربط محض تعارف یا قربت تک محدود نہ رہا بلکہ اعتماد، بصیرت اور ذمہ داری کے احساس پر قائم رہا—ایسا تعلق جو وقت کی آزمائشوں میں بھی قائم رہتا ہے۔
علمی و ادبی رسائل: فکر کے دو رخ، مقصد ایک
غلام حسنین رضوی نے اپنے عہد کی فکری ضرورتوں کو گہری نظر سے دیکھا۔ وہ جانتے تھے کہ ایک طرف عقائد اور نظریات پر یلغار ہے اور دوسری طرف علمی، ادبی اور تحقیقی ذوق کے زوال کا خطرہ۔ اسی فہم کے تحت انہوں نے اپنی صحافتی و علمی جدوجہد کو دو الگ مگر مربوط رخ دیے۔
رسالہ تفنگ عقائد و نظریات کا فکری محاذ تھا—ایمان، فکر اور نظریے کی حفاظت اس کا مرکزی موضوع۔ یہاں عقیدے کا دفاع شور سے نہیں بلکہ دلیل سے کیا جاتا تھا۔ سوال سے گھبرانے کے بجائے اسے عقل، وحی اور روایت کے معیار پر پرکھنے کی تربیت دی جاتی تھی۔
اس کے بالمقابل رسالہ العلم علمی، ادبی اور تحقیقی روایت کا امین تھا۔ فقہ، تاریخ، تفسیر، ادب اور تہذیب جیسے موضوعات پر سنجیدہ، حوالہ جاتی اور مرتب مضامین شائع ہوتے تھے۔ مقصد وقتی معلومات نہیں بلکہ مطالعے کا ذوق، تحقیق کی عادت اور علمی وقار پیدا کرنا تھا۔
یوں “تفنگ” عقیدے کی سرحدوں پر پہرہ دیتا رہا اور “العلم” علم و تحقیق کے چراغ روشن کرتا رہا—دو الگ راستے، مگر ایک ہی فکری ذمہ داری۔
امامتِ ہدایت اور تیاریِ ظہور
اسلام میں امامت محض تاریخی تسلسل نہیں بلکہ ہدایتِ الٰہی کا زندہ نظام ہے۔ رسولِ اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ کا یہ ارشاد کہ “جو اپنے زمانے کے امام کو نہ پہچانے وہ جاہلیت کی موت مرتا ہے” اسی حقیقت کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔ غلام حسنین رضوی نے معرفتِ امامِ عصرؑ اور تیاریِ ظہور کو وعظ کے عنوان سے نکال کر ایک عملی تحریک بنایا۔ انہوں نے خاص طور پر نوجوان نسل میں یہ احساس بیدار کیا کہ انتظار جمود نہیں بلکہ کردار، اخلاق اور فکری تیاری کا نام ہے۔
وقت کے ساتھ اس تحریک میں کچھ ایسے عناصر بھی شامل ہوتے گئے جنہوں نے اس کے فکری اور تحریکی رخ کو بدلنے کی کوشش کی۔ انقلاب اور تحریکی فکر کی گہرائی کو کم کر کے اسے سطحی اور گمراہ کن تعبیرات میں محدود کرنے کی سعی کی گئی، اور بعض حلقوں نے اس کی وسعتِ فکر کو سمیٹ کر اسے جمود اور محدود مفادات کے دائرے میں مقید کرنے کی روش اختیار کی۔ اس رویّے نے بعض مواقع پر تحریک کی اصل سمت کو دھندلا کرنے کی کوشش بھی کی۔
تاہم اس سب کے باوجود یہ حقیقت اپنی پوری قوت کے ساتھ قائم رہی کہ کسی بھی تحریک کی اصل پہچان وقتی جوش، عارضی رجحانات یا بدلتے چہروں سے نہیں ہوتی، بلکہ اس کے بانی کی نیت کی پاکیزگی، اس کی مسلسل محنت اور اس کی فکری دیانت سے متعین ہوتی ہے۔ اسی معیار پر اگر نگاہ ڈالی جائے تو اس تحریک کی اصل روح آج بھی غلام حسنین رضوی کے اخلاص، ثابت قدم جدوجہد اور فکری امانت سے پہچانی جاتی ہے۔
ان کے بوئے ہوئے افکار کے بیج آج بھی کئی ذہنوں میں سوال بن کر زندہ ہیں اور کئی دلوں میں عزم بن کر دھڑک رہے ہیں۔ یہی ان کی اصل کامیابی ہے کہ انہوں نے انتظار کے تصور کو جمود اور بے عملی سے نکال کر شعوری تربیت، اخلاقی تعمیر اور عملی ذمہ داری کا عنوان بنا دیا—اور یہی وہ سرمایہ ہے جو وقت کے ساتھ مدھم ہونے کے بجائے مزید نکھرتا اور واضح ہوتا چلا جاتا ہے۔
ان کی عملی زندگی کا ایک نہایت اہم مگر عموماً نظر انداز کیا گیا پہلو وہ ادارتی، تنظیمی اور تبلیغی خدمات ہیں جو انہوں نے کسی شور و نمائش کے بغیر، خاموشی، اخلاص اور مستقل مزاجی کے ساتھ انجام دیں۔ یہ خدمات وقتی سرگرمیوں یا جذباتی اقدامات تک محدود نہیں تھیں، بلکہ ایک طویل المدت فکری منصوبہ بندی کا حصہ تھیں۔ انہوں نے اپنے وقت اور صلاحیتوں کو اس انداز میں صرف کیا کہ کام آگے بڑھتا رہا اور نام پسِ منظر میں رہ گیا۔
ان کی جدوجہد کا دائرہ صرف تحریر و تقریر تک محدود نہ تھا، بلکہ وہ ادارہ سازی، فکری تنظیم اور عملی میدان میں بھی پوری بصیرت کے ساتھ متحرک رہے۔ جہاں ایک طرف انہوں نے قلم کے ذریعے ذہنوں کی اصلاح کی، وہیں دوسری طرف تنظیمی ڈھانچے قائم کیے، افراد کو جوڑا، ذمہ داریاں بانٹیں اور ایسے پلیٹ فارم فراہم کیے جن کے ذریعے دین اور فکر کا پیغام منظم اور پائیدار انداز میں آگے بڑھ سکے۔ یہی ہمہ جہتی ان کی عملی زندگی کو محض علمی نہیں بلکہ ایک زندہ اور متحرک تحریک کی صورت میں سامنے لاتی ہے۔
رسالہ المنتظر کا اجراء دراصل غلام حسنین رضوی کی فکری بصیرت اور زمانہ شناسی کا عملی اظہار تھا۔ ابتدا میں یہ رسالہ محدود وسائل اور سادہ امکانات کے ساتھ شروع ہوا، مگر مقصد بلند اور سمت واضح تھی۔ جب اس کی مدیریت کی ذمہ داری غلام حسنین رضوی کے سپرد ہوئی تو رسالے کی حیثیت محض ایک مطبوعہ پرچے کی نہ رہی، بلکہ وہ آہستہ آہستہ ایک منظم فکری پلیٹ فارم بن گیا۔ انہوں نے اس کے مندرجات کو اس طرح ترتیب دیا کہ یہ رسالہ فکری رہنمائی، دینی بیداری اور اعتقادی استحکام کا ذریعہ بن جائے۔ ہر شمارہ قاری کو نہ صرف معلومات فراہم کرتا تھا بلکہ اسے سوچنے، سمجھنے اور اپنی دینی شناخت پر غور کرنے کی دعوت بھی دیتا تھا۔
اسی مرحلے میں ان کی رفاقت حجۃ الاسلام آقای شیخ اسماعیل رجبی سے قائم ہوئی، جو خود ایک عالمِ باعمل، ذمہ دار اور نہایت فعال دینی شخصیت تھے۔ ممبئی میں دینی خدمات کے حوالے سے ان کا نام ہمیشہ پیش پیش رہا، اور انہوں نے اپنی علمی سرگرمیوں اور عملی منصوبہ بندی میں غلام حسنین کراروی کو ہمیشہ اپنے ساتھ رکھا۔ یہ رفاقت محض ادارتی یا تنظیمی نہ تھی بلکہ فکری ہم آہنگی پر قائم تھی۔ دونوں اس بات پر متفق تھے کہ تبلیغ کو وقتی جوش سے نہیں بلکہ مستقل مزاجی اور فکری گہرائی کے ساتھ آگے بڑھایا جائے۔
اسی ہم آہنگی کے نتیجے میں نشرِ علومِ آلِ محمد کے پلیٹ فارم سے ایک منظم تبلیغی تحریک کو فروغ ملا، جس کا بنیادی مقصد عام مومنین تک اہل بیتؑ کے معارف، امامت کی فکر اور دینی شعور کو سادہ مگر مؤثر انداز میں پہنچانا تھا۔ اس تحریک میں نہ تصنع تھا نہ نمائشی سرگرمی؛ اصل توجہ فکر کی اصلاح، عقیدے کی مضبوطی اور عمل کی سمت درست کرنے پر تھی۔ غلام حسنین رضوی اس پورے عمل میں فکری رہنما کی حیثیت رکھتے تھے، جب کہ آقای رجبی اپنی عملی فعالیت اور تنظیمی مہارت کے ذریعے اسے زمین پر اتارتے تھے۔
اسی فکری تسلسل میں رسالہ “تفنگ” کے ساتھ ساتھ “خدامُ الزائرین” جیسے رسالے کی اشاعت بھی غلام حسنین رضوی کی جدوجہد کا اہم حصہ بنی۔ “خدامُ الزائرین” حاجی دیوجی مسافر خانہ سے شائع ہوتا تھا اور بالخصوص زائرینِ اہل بیتؑ کی خدمت، رہنمائی اور دینی تربیت کے لیے وقف تھا۔ اس رسالے کے ذریعے زیارت کو محض ایک سفری عمل کے بجائے ایک شعوری، تربیتی اور روحانی تجربہ بنانے کی کوشش کی گئی۔ اس میں ایسے مضامین شامل کیے جاتے تھے جو زائر کو سفر سے پہلے آمادہ کریں، سفر کے دوران رہنمائی دیں اور واپسی کے بعد اس کے کردار اور فکر پر اثر انداز ہوں—تاکہ زائر اپنے ساتھ صرف یادیں نہیں بلکہ فکر و عمل کی روشنی بھی لے کر لوٹے
ممبئی میں ان کی خدمات کا ایک اہم باب تنظیم المکاتب سے وابستگی ہے، جہاں انہوں نے مرحوم مولانا سید غلام عسکری صاحب کے ساتھ مل کر نہایت خاموش مگر مؤثر کردار ادا کیا۔ مکاتب کے نظام کو منظم کرنا، تعلیمی خطوط کو مضبوط بنانا اور دینی تعلیم کو عام مومنین، خصوصاً بچوں اور نوجوانوں تک پہنچانا—یہ سب کام انہوں نے بغیر کسی تشہیر کے انجام دیے۔ اسی طرح زینبیہ امامباڑے کے قیام میں ان کا تعاون بھی اس بات کی علامت ہے کہ وہ اداروں کو شخصیت پر نہیں بلکہ مقصد پر قائم دیکھنا چاہتے تھے۔
اپنے آبائی وطن کراری سے ان کا رشتہ بھی محض جذباتی نہ تھا، بلکہ عملی تھا۔ وہاں ایک عظیم الشان کالج کے قیام کی راہ ہموار کرنا ان کی دور اندیشی کا ثبوت ہے۔ وہ جانتے تھے کہ قوم کی اصل تعمیر تعلیم سے ہوتی ہے، اور اگر دیہی و نیم شہری علاقوں میں معیاری تعلیمی ادارے قائم نہ کیے گئے تو فکری خلا ہمیشہ باقی رہے گا۔ اس لیے انہوں نے پسِ پردہ رہتے ہوئے، مشورے، رابطے اور رہنمائی کے ذریعے اس خواب کو حقیقت کے قریب لانے میں کردار ادا کیا۔
یہ تمام خدمات مل کر واضح کرتی ہیں کہ غلام حسنین رضوی محض ایک عالم یا مصنف نہیں بلکہ ایک خاموش معمارِ فکر تھے۔ انہوں نے افراد بھی بنائے، ادارے بھی؛ تحریر بھی دی، نظام بھی—اور سب کچھ اس طرح کہ نام پیچھے رہ گیا اور کام آگے بڑھتا چلا گیا۔ ایسی شخصیات کسی ایک دور کی نہیں ہوتیں، بلکہ ہر دور کا سرمایہ ہوتی ہیں۔ ان کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ اصل کامیابی وقتی مقبولیت میں نہیں بلکہ اس تسلسل میں ہے جو انسان اپنے بعد چھوڑ جاتا ہے—ایسا تسلسل جو فکر کو زندہ رکھے، ضمیر کو بیدار کرے اور آنے والوں کو راستہ دکھاتا رہے۔









آپ کا تبصرہ